سوال: سوال: میں اپنے ملک سے اپنے شوہر کے ساتھ عمرہ کے لیے آئی ہوں اور جدہ پہنچتے ہی مجھے عمرہ شروع کرنے سے پہلے ہی حیض آگیا۔ چار دن کے بعد، ہماری واپسی کی پرواز (فلائٹ) ہے۔ ہم اپنی فلائٹ ملتوی نہیں کر سکتے کیونکہ میرے محرم یعنی میرے شوہر کو ضروری وجہ سے واپس جانا ہے۔ اس کے علاوہ، مجھے یقین نہیں ہے کہ میں دوبارہ عمرہ کرنے کے لیے واپس آ سکوں گی یا نہیں۔ میں نے پہلے ہی عمرہ کی نیت کر لی ہے اور احرام باندھ چکی ہوں۔ میرے پاس مکہ میں رہنے کا وقت نہیں ہے جب تک کہ میں اس کے بعد عمرہ کرنے کے لیے پاک نہ ہو جاؤں۔ اس صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ یہ میں اپنی زندگی میں پہلی بار عمرہ کے لیے آئی ہوں!
جواب کا خلاصہ: اگر صورت حال ایسی ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، جہاں عورت کو احرام کی حالت میں طواف کرنے سے پہلے حیض آجائے, اور اس عورت کے محرم کو جلد ہی ضرورتاً سفر کرنا پڑ جائے اور اس عورت کے ساتھ (کوئی) محرم یا شوہر مکہ میں نہ ہو تو اتنی سخت ضرورت کی وجہ سے طواف کرنے کیلئے جو حیض سے پاک ہونے (طہارت) کی شرط ہے وہ ساقط ہو جائیگا
جواب: الحمد للہ
سب سے پہلے،
اگر آپ کے لیے کوئی ایسی دوا لینا ممکن ہے جو – بغیر کسی نقصان کے – ماہواری (حیض) کو روک سکتی ہے، تو آپ ایسا کر سکتے ہیں. اگر خون کا بہائو بند ہو جائے اور وہ جگہ سوکھی ہو جائے اتنی کہ روئی بغیر کسی خون کے دھبے،پیلا پن یا کسی نجاست کے بغیر باہر آئے تو آپ کو پاک سمجھا جائےگا۔اس صورت حال میں آپ پاکی کی حالت میں عمرہ کر سکتی ہیں۔اس بات سے حیض والی عورتوں کے طواف کے باطل ہو جانے والوں کا جو اختلاف ہے وہ دور ہو جائیگا، جو جمہور علماء کا قول ہے۔”
عبد الرزاق نے اپنی مصحف ( 1 / 318 ) میں بیان کیا ہے : ہم سے معمر نے بیان کیا : ہم سے ابن عیینہ کے آزاد کئے ہوئے غلام واصل نے ایک شخص کی سند سے بیان کیا کہ ابن عمر سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کے حیض کا خون طویل ہو گیا تھا اور وہ کوئی ایسی دوا پینا چاہتی تھی جو کہ خون کو روک سکے تو ابن عمر کو اس میں کوئی حرج نہیں لگا۔ ابن عمر نے عرق (مسواک کی قسم) کے درخت کا پانی تجویز کیا۔ معمر نے کہا: میں نے ابن ابی نجیح سے اس کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا ہے اور انکو اس میں اس میں کوئی حرج نہیں لگا۔ 1https://shamela.ws/book/13174/1325
عطاء سے بھی یہ روایت ہے کہ ان سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جسے حیض آتا ہے اور اسے ایسی دوا دی جاتی ہے جس سے اس کا حیض رک جاتا ہے جبکہ وہ ابھی حیض کی حالت میں ہی ہوتی ہے۔ کیا وہ طواف کر سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں اگر وہ پاکیزگی دیکھے۔ لیکن اگر وہ واضح سفید پاکیزگی کو دیکھے بغیر صرف "الخفوق” کو دیکھتی ہے تو پھر نہیں۔” الخفوق کا مطلب خون کی ایک چھوٹی یا ہلکی سی مقدار ہے جو حیض کے رُکتے وقت نظر آئے ۔
اور کشف القناع (كَشّفُ القِناع) (1/218) میں ہے: "حیض کو روکنے کے لیے حلال دوا لینا جائز ہے، بشرطیکہ اس سے کوئی نقصان نہ ہو۔” 2https://shamela.ws/book/622/551
دوسری بات, اگر حیض کو روکنا ممکن نہ ہو یا ایسا کرنے سے نقصان پہنچے تو آپ کو دو رائے کا سامنا کرنا ہے:
پہلی: بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ سفر سے پہلے پاک ہو جائیں تو میقات پر واپس آ سکتے ہیں، احرام باندھ سکتے ہیں اور عمرہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ پاک نہیں ہوئے تو بغیر عمرہ کیے واپس جائیں گے، اور اس میں کوئی حرج نہیں، خاص کر اگر آپ پہلے عمرہ کر چکے ہوں۔ اس صورت میں فرض کی ادائیگی پوری ہو چکی سمجھا جائیگا ، اس قول کے مطابق عمرہ واجب ہے۔
دوسری: خون کو پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بعد آپ عمرہ کا احرام باندھ سکتے ہیں اور حیض کی حالت میں طواف کر سکتے ہیں۔ یہ اس قول پر مبنی ہے کہ طواف کے صحیح ہونے کے لیے طہارت شرط نہیں ہے، بلکہ واجب ہے ،اور کسی درست عذر کی وجہ سے ساقط ہوسکتی ہے یا بدلے میں قربانی دی جا سکتی ہے۔
حنفی مکتب فکر کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں طواف صحیح ہے اور قربانی واجب ہے۔ احمد کی ایک روایت میں ہے کہ طواف صحیح ہے، اور اس کے بدلے میں ایک بکری کی ضرورت ہے۔ شیخ الاسلام نے اس قول کو ترجیح دی کہ طواف عذر کی صورت میں جائز ہے اور عورت سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔
المردوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کا قول (اور اگر وہ طواف ناپاکی کی حالت میں یا برہنہ حالت میں کرے تو صحیح نہیں ہوگا) – اگر کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں طواف کرے۔ مذہب کا صحیح قول، اور یہ کہ جسے علماء نے قبول کیا ہے، کہ وہ صحیح نہیں ہوگا۔ قاضی وغیرہ نے کہا کہ یہ اپنے تمام احکام میں نماز کی طرح ہے سوائے تلفظ کے یعنی سوائے بات چیت کے مباح ہونے کے.
اور ایک اور قول ہے کہ: یہ صحیح ہے، اور قربانی سے اس کی تلافی ہوتی ہے۔ الفروع (الفروع) میں ہے: "اور ایک دوسرے قول کے مطابق اس کی تلافی قربانی سے ہوتی ہے، اگر وہ شخص مکہ میں نہ ہو، اور غالباً مصنف کا یہی مطلب ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ صرف اس کے لیے جائز ہے جو بھول جائے یا عذر رکھتا ہو، اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ صرف ان دو قسموں کے لیے جائز ہے جس میں قربانی ضروری ہے۔ یہ بھی قول ہے کہ یہ حائضہ عورت کے لیے جائز ہے اور اس کی تلافی قربانی سے کرنی چاہیے جو کہ القاضی کا ظاہری بیان ہے۔ شیخ تقی الدین نے یہ نظریہ اختیار کیا کہ یہ اس عورت کے لیے اور ہر عذر والے کے لیے جائز ہے اور ان میں سے کسی ایک سے بھی قربانی کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کے لیے طہارت(پاکی کا ہونا) واجب ہے یا سنت؟ مذہب احمد میں اس کے دو رائے ہیں۔ (یہ "کتاب الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف لمرداوي 4/16” سے لیا گیا ہے۔)۔ 3https://shamela.ws/book/21609/1640
لہذا، آپ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے قول کی پیروی کر سکتے ہیں، اگر آپ پاک نہیں ہوئے اور مکہ میں نہیں رہ سکتے جب تک کہ آپ ایسا نہ کریں۔
افتا کی مستقل کمیٹی سے یہ سوال کیا گیا: "ایک عورت احرام کی حالت میں عمرہ کرنے آئی، لیکن مکہ پہنچنے کے بعد اسے حیض آگیا۔ اس عورت کے محرم کو فوری طور پر سفر کرنا پڑ جائے، اور اس عورت کا مکہ میں کوئی نہ ہو۔ (ایسی حالت میں)کیا حکم ہے؟”
ان لوگوں نے جواب دیا: "اگر یہ صورت حال ایسی ہی ہے جیسا کہ بیان کی گئی ہے، جہاں عورت کو احرام کی حالت میں طواف کرنے سے پہلے حیض آجاتا ہے اور اس کے محرم کو فوراً سفر کرنا پڑ جائے، اور مکہ میں اس عورت کا کوئی محرم یا شوہر نہ ہو، تو مسجد میں داخل ہونے اور طواف کرنے کیلئے جو حیض سے پاک ہونے کی شرط ہے وہ ضرورت کی وجہ سے ساقط ہو جائیگی۔ وہ عورت حفظان صحت کا کپڑا استعمال کر سکتی ہے اور اپنے عمرہ کے لیے طواف اور سعی کر سکتی ہے، الا یہ کہ اس عورت کیلئے کم مسافت اور آسانیِ سفر کی وجہ سے اپنے شوہر یا محرم کے ساتھ سفر کر کے واپس ہونا ممکن ہو۔ اس صورت میں وہ عورت سفر کرے اور جب حیض بند ہو جائے تو پاک ہو کر عمرہ کا طواف کرلے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور تم پر سختی نہیں چاہتا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتا ہے: "اللہ کسی جان کو اس کی برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔” اور فرماتا ہے: "اور اس نے تمہارے لیے دین میں کوئی تنگی نہیں کی”۔ اور فرماتا ہے: ’’پس اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہو سکتا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں جتنا ہو سکے کرو”۔ یہ، دیگر نصوص کے ساتھ ہے جو آسانی کو ابھارتی اور مشکلات کو دور کرتی ہیں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد، مشہور عالم ابن القیم رحمہ اللہ سمیت بہت سے علماء کے پاس یہی مقام تھا۔ [فتاویٰ اسلامیہ (2/238) سے نقل کیا گیا ہے]۔
شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ ایک عورت کو حیض آیا اور اس نے طواف افاضہ نہیں کیا۔ وہ سلطنت سے باہر رہتی ہو، اور اس کے واپس ہونے کا وقت آ گیا ہو، اور وہ عورت اپنی روانگی میں دیر نہیں کر سکتی، اور اس کے لیے دوبارہ سلطنت میں واپس آنا ناممکن ہو۔ کیا حکم ہے؟”
انہوں نے جواب دیا: "اگر صورت حال اس طرح ہو کہ جہاں عورت نے طواف افاضہ نہیں کیا اور حیض آجائے اور طواف کرنے سے پہلے سفر کرنے پر اس کا مکہ میں رہنا یا واپس آنا ناممکن ہے، تو اس صورت میں وہ دو میں سے ایک آپشن کا انتخاب کر سکتی ہے: یا تو وہ خون کو روکنے کے لیے دوا استعمال کر سکتی ہے اور طواف کر سکتی ہے، یا پھر وہ ضرورت کی وجہ سے کپڑا استعمال کر کے خون کو مسجد میں جانے سے روک سکتی ہے اور طواف کر سکتی ہے۔ یہ رائے، جسے ہم نے ذکر کیا ہے، سب سے زیادہ صحیح ہے اور اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے منتخب کیا ہے۔
دوسرے متبادل دو میں سے ایک ہیں: یا تو وہ حالتِ احرام میں رہے، یعنی وہ اپنے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی کوئی اس سے شادی کر سکتا ہے اگر وہ شادی شدہ نہ ہو۔ یا اسے ‘محشرہ’ (ممنوعہ) سمجھا جاتا ہے، اور اس عورت کو جانور کی قربانی کرنی ہوگی اور وہ احرام سے باہر ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں اس کا حج صحیح نہیں ہے۔ یہ دونوں آپشن مشکل ہیں۔
لہٰذا ترجیحی حکم وہی ہے جسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ضروری حالات میں بیان کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اس نے تمہارے لیے دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی‘‘۔ اور فرماتا ہے: ’’اللہ تمہارے لیے آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور تم پر سختی نہیں چاہتا۔‘‘
جو بھی ہو اگر عورت سفر کرنے کی استطاعت رکھتی ہو اور پھر پاک ہونے پر واپس لوٹے تو اس کے سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ایک بار جب وہ پاک ہو جائے تو وہ واپس آ کر حج کا طواف کر سکتی ہے۔ اس دوران وہ اپنے شوہر کے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ اس نے احرام سے دوسری رہائی مکمل نہیں کی ہے۔ [مجمع فتاوی ابن عثیمین (24/351) سے نقل کیا گیا ہے]۔
واضح رہے کہ یہ طواف ان لوگوں کے لیے ہے جن کے پاس ایسا عذر ہے اور اس کیلئے مشقت کو دور کرنا ہے۔ ورنہ حائضہ عورت کو طواف کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
اللہ ہمارے اعمال کو قبول فرمائے۔
اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
فوٹ نوٹ:
- 1https://shamela.ws/book/13174/1325
- 2https://shamela.ws/book/622/551
- 3https://shamela.ws/book/21609/1640